یوں تو پاکستان سیرگاہوں سے بھراپڑا ھے۔ ہر علاقہ ایک عجیب کشش رکھتا ھے – ہر علاقہ میں مخصوص سیاحتی مقام ، تاریخی حکایتیں، قدرتی وسائل، مختلف انواع و اقسام کے پودے، درخت، جانور، خوبصورت پرندے، نہ صرف ملکی بلکہ غیرملکی سیاحوں کو اپنی جادوئی کشش سے کھینچتے ہیں بلکہ پاکستان کے ان مقاموں کی وجہ سے پاکستان پہلے ہی سیاحت کے شعبے میں ید طولی رکھتا ھے
پاکستان میں بہت سے خوبصورت مقام پہلے ہی حکومتی توجہ حاصل کر چکے ہیں اور سیاحت کا مرکز بن چکے ہیں۔ تاھم ابھی بھی بے شمار صحت افزا ٹھنڈے اور دلکش مقام ایسے بھی ہیں جو ابھی تک حکومتی اور سیاحتی توجہ کے منتظر ہیں۔ انہیں پرکشش، حسیں و جمیل علاقوں میں ایک علاقہ “ مزری غر” ھے۔ پاکستان کے وسط میں یہ نامعلوم، پراسرا مقام کوہ سلیمان رینج کی تیسری بڑی بلند چوٹی ہے۔ اس چوٹی کی بلندی سطح سمندر سے قریباً ۳۱۱۱ میٹر (۱۰۲۰۷ فٹ) ہے۔
مزری غر کہاں پہ واقع ہے؟
اگر یہ واقعی میں بہت خوبصورت ہے تو ابھی تک اس کو ایکسپلور کیوں نہیں کیا گیا؟
یہاں پہنچنے کے لئے سفر میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں؟ اور کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے؟
کیا یہاں پہ دنیا کے سب سے بڑے چلغوزے کے جنگلات ہیں؟
ان سب سوالوں کے جواب اس آرٹیکل میں تفصیل سے ملیں گے۔
مزری غر کہاں پہ واقع ہے؟
مزرى غر عرف کالا پہاڑ جو تونسہ کى سب تحصیل وہوا سے صرف 60 کلومیٹر کے روڈ کا مطالبہ کرتا ہے جس روڈ کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں ہوگا۔۔صرف 15 سے 20 کلومیٹر کا روڈ بلوچستان میں بنانا پڑے گا۔یہ مرى کى سیاحت کا بوجھ کم کرکے سیاحتى معیشت کا رخ بلوچستان، جنوبى پنجاب اور جنوبى کےپى کے کى طرف موڑ سکتا ہے۔۔تین صوبوں کے سنگم پر ہے۔ دس ہزار 10000 فٹ بلند پہاڑ، 20 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ مون سون کے بادلوں کے جلوے قابل دید ہوتے ہیں ۔بادل کوہ پیماٰؤں کو نیچے اتر کر سلامى دیتے ہیں ۔گرمیوں میں یہ مرى،زیارت،سکردو،ہنزہ،وادى نیلم،کالام،ایوبیہ اور نتھیا گلى کو کم درجہ حرارت میں دم بھى نہیں مارنے دیتا۔
اس سے تقریباً کوئ دو 4 کلومیٹر آگے بلوچستان شروع ہوتا ہے۔۔بہت ہى خوبصورت اور ٹھنڈى جگہ ہے اس پل کے نیچے سارا سال پانى بہتا رہتا ہے جس کو علاقائی زبان میں گنگ بھى کہتے ہیں۔۔عام لوگ مزرى غر کے ایڈونچر کى سختى اور تھکاوٹ برداشت نہیں کرسکتے۔ان کو یہاں تک اور دھانہ سر تک سیر کا مشورہ ہے۔
اس جگہ پر اس کو کالا پہاڑ وغیرہ کہتے ہیں اور اسى کالا پہاڑ پر مزرى غر جنوب میں ہے۔
اگر یہ واقعی میں بہت خوبصورت ہے تو ابھی تک اس کو ایکسپلور کیوں نہیں کیا گیا؟
کوہ سلیمان کا ایک ایسا علاقہ جو سکردو ،ناران کاغان اور مری نتھیا گلی سے زیادہ ٹھنڈااور ایک عظیم سیرگاہ ہے۔
فی الحال وہاں رہائش اور کھانے پینے کا انتظام نہیں نہ ہی گاڑیوں کا راستہ ہے ۔ اسی وجہ سے ابھی تک حکومتی سطح پر اس مقام کو کوئی پزیرائی نہیں ملی، البتہ اس علاقے کو ایکسپلور کرنے والا نوجوان عبدالبصیر پورا دن پیدل سفر کر کے اس سرد ترین ،عجائبات، قدرتی زیتون،شہد اور اناروں کی سرزمین پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔عبدالبصیر اب اس علاقے کے لیئے مزری غر ہیلتھ ریزارٹ موومنٹ پر کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کوہ سلیمان پہاڑ کی سب سے بلند چوٹی “قیس غر” جوکہ ۳۴۴۴ میٹر(۱۱۲۹۹فٹ) بلند ہے اور دوسری بڑی چوٹی ۳۳۷۸ میٹر (۱۱۰۸۳فٹ) بلند تخت سلیمان ہے۔تاھم بلندی کے حوالے سے کچھ لوگ ابھی بھی شکوک و شبہاب میں مبتلاء ہیں-
کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلہ بظاہر تو خشک معلوم ہوتا ہے مگر “ مزری غر” انتہائی سرسبز اور تر علاقہ ہے۔ اس علاقے کی سال 2021ء کے جون اور جولائی کے مسلسل ٹمپریچر گراف سے یہ ظاھر ھوا کہ یہ مقام فورٹ منرو، مری، ایوبیہ، نتھیاگلی، کاغان،کالام، وادی نیلم، زیارت، قلات، چترال، گلگت بلتستان، وادی ہنزہ، اور اسکردو سے بھی ٹھنڈا ھے۔ تاھم مزری غر، ناران، اور سوات کا درجہ حرارت ایک جیسا ھے۔ ایک اور پراسرار چوٹی جو مزری غر، سوات اور ناران سے بھی ٹھنڈی ھے وہ ہے “اوباستہ سوکہ” جو کہ تخت سلیمان کے شمال مغرب میں ۸-۱۰ کلومیٹر کے فضائی فاصلے پہ ہے۔
سارے سیاح حضرات تخت سلیمان تک تو جاتے ہیں مگر مزری غر اور اوباستہ سوکہ(پشتو نام) سے زیادتی کرتے ہیں۔
کیا مزری غر کوہ سلیمان پاکستان کے شمالی علاقوں سے کم خوبصورت ہے؟
شمال مشرقی بلوچستان انتہائی خوبصورت اور ٹھنڈا علاقہ ہے۔ پاکستان کا یہ علاقہ پرامن علاقہ ہے۔ افسوس کہ ابھی تک اس علاقے کو سیرگاہ کا درجہ نہیں دیا گیا۔
مزری غرجنوبی پنجاب ، جنوب مغربی کے پی کے اور شمال مشرقی بلوچستان کے بارڈر پہ واقع ہے۔ یہ کوہ سلیمان کی تیسری بلند چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 10207 فٹ ہے۔ یہ اکثر شمالی علاقہ جات سے ٹھنڈی جگہ ہے۔
Mizri Ghar Health Resort movement اس مقام کی طرف حکومت کی توجہ دلانے کے لئے کچھ دوستوں نے باقاعدہ
کے نام سے تحریک چلائی ہوئی ہے۔
محترم قارئین! مزری غر صرف ایک چوٹی نہیں بلکہ شمالاًجنوباً۱۸ سے ۲۰ کلومیٹر رقبے پہ محیط رقبہ ہے۔ یوں تو چوٹی کو ایک دن میں دیکھا جاسکتا ھے مگر ایکسپلور کرنا ھو تو شمالاً جنوباًچلنے کے لئے آپکو چار سے پانچ دن درکار ہوں گے۔
اسی طرح مزری غر کا پہاڑ اور وادیوں کے لئے دو ماہ درکار ہوں گے۔
مزری غر یوں تو بلوچستان کے ضلع موسٰی خیل اور سب تحصیل پلاسین میں آتا ہےمگر یہ پہاڑ تین صوبوں پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو آپس میں “چوبارہ” یا "چتر وٹہ” کے مقام پر ملاتا ھے۔ اس کی مقامی آبادی قریباً ۱۰۰۰۰ سے ۱۲۰۰۰ افراد کی ہے اور یہاں کے لوگوں کا گزر بسر مال مویشی، چلغوزہ ، زیتون اور شہد پر ھوتا ھے۔
نوٹ۔۔وہوا سے براستہ لزدان مزرى غر روڈ کے بغیر عام عوام مزرى غر کے نظاروں سے محروم رہے گى کیونکہ فى الحال یہ مہم پسندوں، ایڈونچر کے دیوانوں اور اونچ نیچ برداشت کرنے والوں کے لئے ہى موزوں ہے۔
یہاں پہنچنے کے لئے سفر میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں؟ اور کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے؟
یہ راستہ پہاڑی ہے اسکو ہمت اور جذبے والے جوان عبور کر سکتے ہیں ۔ اس کے وزٹ کیلے اس چیز کا خیال رکھا جائے کہ
اوپر جانے کیلے پانی بہت ہی اہم اور ضروری ہے جو کم سے کم 100 لٹر ہو نا چاہئیے
اوپر ٹاپ پہ رات گزارنے کیلے ٹینٹ وغیرہ اور گرم بسترے گرم کپڑے ضروی ہیں اس کے علاوہ وہاں جانے کا کوئی فائدہ نہیں
لکھانی سے مزری غر تک کا سفر 177 کلو میٹر ہے
لکھانی سے براستہ شاٹ کٹ کیڑی شموزائی چودھوان درابن کلاں سے آگے سی پیک روڈ جو زوب والا ہے وہی روڈ جاتا ہے ڈائریکٹ روڈ کے آس پاس جو سٹی آتے ہیں درہ ذندہ ،مغل کوٹ ،دانہ سر پھر آگے مزری غر کا لنک روڈ آتا ہے جو F.C پکٹ دانہ سر سے 5,6 کلو میٹر اگے ہے
شمالى علاقوں کى خوبصورتى اور طرح کى ہے جب کہ بلوچستان کى خوبصورت اس سے منفرد اور مختلف ہے اور اپنا ثانى نہیں رکھتى۔یہ مقام گوادر کے قریب ہے،مگر اس کا قریبى کیمرے والا ڈیٹا ڈھونڈنے سے بھى نہیں ملا۔۔ پنہان کوہ پاکستان کى دنیا میں پہچان بن سکتا ہے، یہ فوٹو گرافرز کے لئے جنت ہے۔جغرافیہ/جیالوجى کى اصطلاح میں اس طرح کى زمین,صحرا،پہاڑ کو کہتے ہیں۔
پنہان کوہ کى کشش اس کے بلند پہاڑى ٹاورز ہیں جو بے شمار ہیں ، اس مقام کے رنگ مختلف ہیں ،اس کے نمونے مختف ہیں ،اس میں تنوع ہے،اس کى وسعت کافى زیادہ ہے۔۔۔یہ کنڈ ملیر اور Princess of Hope سے کہیں زیادہ بڑا اور خوبصورت جہان ہے۔۔یہ دنیا بھر کے لینڈ سکیپ فوٹور گرافرز کےلئے ایک زبردست مقام ہے۔
کیا یہاں پہ دنیا کے سب سے بڑے چلغوزے کے جنگلات ہیں؟
دنیا کا سب سے بڑا چلغوزے کا جنگل مزری غر پر ہے۔ یہاں ہر سال کئ بار برفباری ہوتی ہے آجکل بھی دن کا درجہ حرارت 5 /7 سینٹی گریڈ سے اوپر نہیں جاتا۔ مارکیٹ پرائس کا علم نہ ھونے کی وجہ یہ ساری چیزیں انتہائی سستے داموں فروخت کر کے یہ لوگ انتائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرتےہیں ۔
بس سہولیات آنے کى دیر ہے۔۔پھر مزرى غر عرف کالاپہاڑ گرمیوں میں اور سردیوں کى برفبارى کے ایام میں ریکارڈ سیاحت کا باعث بنے گا اور علاقے میں خوشحالى کاانقلاب آئے گا۔ کوہ سلیمان میں لگ بھگ دس ہزار فٹ بلندى والے اس مقام پر اتنى انچائی پر بھى ہموار میدان اس کى اصل طاقت ہیں۔ یہ جگہ مرى،ایوبیہ،نتھیا گلى،زیارت سے زیادہ ٹھنڈى ہے ۔ تونسہ کى سب تحصیل وہوا سے صرف 60 کلومیٹر مغرب میں بلوچستان کا یہ علاقہ پنجاب کے بالکل قریب ہے۔
پی ٹی آئی کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا تعلق بھی اس علاقے سے رہا ہے۔ یہاں کے مقامی لوگوں کا بار بار اس طرف توجہ دلانے کے باوجود اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔ اور انہی وجوہات پہ اس علاقہ ابھی تک ایک با قاعدہ تفریح گاہ کے طور پر نہیں ابھر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اس علاقے تک کوئی روڈ نہیں ہے۔ اگر اس علاقےتک سڑکوں کی سہولت ہوتی تو آج یہ علاقہ پورے پاکستان کے لوگوں کو اپنی خوبصورتی کی بِنا پر، اپنی طرف کھینچ لیتا۔۔۔
خبردار مزری غر ابھی تک کوئی سیر گاہ نہیں بلکہ مستقبل میں ایک بہترین سیاحتی مقام بن سکتا ہے۔ فلحال صرف مہم جو اور سخت جان افراد ہی جاسکتے ہیں۔
لکھ لیجئے،گوادر کے قریب والا یہ مقام مکمل ایکسپلور ہونے پر تہلکہ مچائے گا۔